J. Iqbal

اسلام آباد: مشیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور مارکیٹ میں اعتماد ختم ہونے کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی،فرینڈز آف پاکستان سے امداد نہ ملی تو آئی ایم ایف سے چار ارب ڈالر قرض لیں گے۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے امور خزانہ حناربانی کھرکے ساتھ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہحکومت پر الزام لگایا جارہا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے میں بہت زیادہ وقت لگایا گیا۔معیشت میں استحکام کے اثرات نظر آرہے ہیں، معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے اخراجات میں 120ارب روپے کی کمی کی گئی، غیر ضروری مصنوعات کی درآمدات میں کمی کیلئے اقدامات کیے،اس سال شرح نمو 2فیصد تک رہی جسے تین سے چار فیصد تک لایا جائیگا۔مجموعی بجٹ کا مالیاتی خسارہ4.9فیصد ر ہے گاجبکہ بجٹ کا اصل خسارہ 3.4فیصد ہے،دوست ملکوں کی امداد سے بجٹ خسارہ پورا کیا جائے گا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہمعیشت میں بہت سی خامیا ں ہیں۔معیشت کا حجم 14.82ہزار ارب روپے ہوگیا۔ روپے کی شرح تبادلہ اور سخت مانیٹری پالیسی سے افراط زر کم کیا، جون کے اختتام تک افراط زر13فیصد ہوجائے گی۔ مالیاتی خسارہ 3.3فیصد سے کم ہوا،بجٹ سے سبسڈی کا بوجھ ختم ہوگیا۔زر مبادلہ کے ذخائر 11ارب 30کروڑ ڈالر رہے،معاشی ترقی کا دارومدار صنعتوں پر ہے، ساٹھ فیصد ریوینو مینوفیکچرنگ سے حاصل ہوتا ہے، اس شعبے میں تین فیصد کمی ہوئی جس کے اثرات معیشت پر بھی مرتب ہوئے ،صنعتوں کے استحکام کیلئے روپے کی قدر اور شرح سود کو بہتر بنانا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ اگلے سال کے بجٹ کی بھی منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے۔