J. Iqbal

اسلام آباد : بھارت میں پندرہ برس سے قید پانچ پاکستانی ماہی گیروں کے رشتہ دار انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کے منتظر ہیں۔کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں رہنے والی یہ بوڑھی مائی آسی پندرہ برسوں سے بیٹوں آچر اور صدیق، داماد حسین اور بھتیجوں میر وسایو اور خمیسو کی منتظر ہے جنہیں بھارتی میری ٹائم سیکورٹی نے شاہ بندر سے ماہی گیری کے دوران اغواء کیا۔ غربت تو پہلے ہی تھی ایک گھرانے کے پانچ افراد کی گرفتاری کے بعد فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ کے مطابق پاکستان میں پانچ سو چھیتر بھارتی ماہی گیر اور بھارت میں ایک سو تئیس پاکستانی ماہی گیر قید ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے کہ گرفتار ماہی گیروں میں آج تک کوئی دہشت گرد یا جاسوس ثابت نہیں ہوا، ان کی گرفتاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔پاک بھارت تعلقات میں تناوٴ سے دونوں ملکوں کے ماہی گیر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں صرف مائی آسی نہیں ایسی درجنوں مائیں ہیں جن کی آنکھیں اپنے پیاروں کو دیکھنے کیلئے ترس گئی ہیں۔